صفحات

▼

Tuesday, 13 October 2026

بلائے جاں سہی پر زندگی اتنی بھیانک بھی نہیں

 یُوں بھی ہوتا ہے


یُوں بھی ہوتا ہے کہ اکثر

زندگانی کے اُفق پر

بدلیاں غم کی یکایک

یُوں اُمڈ آتی ہیں جیسے

زندگی کی آخری یہ شام ہو

چھُوٹنے لگتی ہیں نبضیں

ڈُوبنے لگتا ہے دل

اور یُوں لگتا ہے جیسے

ہو نہ پائے گی سحر اس شام کی

اور پھر ناگاہ

اک بے نام غُنچے کے چٹکنے سے

یا اک معصُوم بچے کے تبسّم سے

طلسمِ تیرگی کا ہفت پیکر

ٹُوٹ جاتا ہے

اُبھر آتے ہیں پھر سے

آسماں پر چاند اور تارے

قیامت خیز لہروں کا تلاطم

ڈُوب جاتا ہے

بلائے جاں سہی پر

زندگی اتنی بھیانک بھی نہیں


نور احمد شیخ

No comments:

Post a Comment