صفحات

▼

Tuesday, 13 October 2026

تمہارے غم کو غم جاں بنا لیا میں نے

 تمہارے غم کو غم جاں بنا لیا میں نے

کہ جنگلوں کو گلوں سے سجا دیا میں نے

نہ جانے کتنی امیدیں لہو لہو کر کے

دل تباہ کو جینا سکھا دیا میں نے

سبب ہو کچھ بھی انہیں روٹھنے کی عادت ہے

یہ سوچنا ہی غلط ہے کہ کیا کیا میں نے

ہر ایک بات مِرے حق میں تھی مگر پھر بھی

جو فیصلہ تھا بہت سوچ کر کیا میں نے

اسے نہ بھول سکا ہوں نہ بھول پاؤں گا

یہ تجربہ تو کئی بار کر لیا میں نے

تِرے بغیر مِری پیاس بجھ نہیں پائی

ہمیشہ یاد کیا تجھ کو ساقیا میں نے

علاج سوز دروں کا نہ ہو سکا پھر بھی

سحر بنامِ دوا زہر بھی پیا میں نے


سحر محمود

No comments:

Post a Comment