گردن سے جدا کر دو، لو حاضر ہے مِرا سر
میں کہہ نہیں سکتا کبھی قطرے کو سمندر
ہے جام سخن اصل میں آگاہی کا ساغر
کہتے ہیں جسے شاعری حکمت ہے سراسر
زردار! اگر تجھ کو خوشی چاہیے سچی
محتاج کی، مفلس کی، غریبوں کی مدد کر
اس قوم کا اٹھ جانا ہی بہتر ہے جہاں سے
جس قوم میں پیدا نہیں ہوتے ہیں سخنور
اک معمولی چادر بھی میسر نہیں ان کو
مر جاتے ہیں بچے کئی سردی سے ٹھٹھر کر
💕 نادانئ انسان پہ ہنستا ہے مِرا دل
اک پل کا بھروسا نہیں سو لاکھ کا ہے گھر
اک چھوٹی سی بچی سے بھی کرتا ہے زنا اُف
اس دور کا انسان ہے حیواں سے بھی بدتر
انسان کے قابو میں نہ آئے گی کبھی موت
یہ معرکہ دنیا میں نہیں ہو گا کبھی سر
ہے حافظہ اس دور کے انساں کا غضب کا
سب یاد ہے اک لفظ 'خدا' ہی نہیں ازبر
مانا کہ وہ رہتے ہیں اسی ایک جہاں میں
ممکن ہی نہیں شیر کی مانند ہو خچر
ماضی کے مسلماں کی حکومت تھی دلوں پر
وہ لوگ تھے دریاِئے محبت کے شناور
سب بیچیے، ایمان نہیں بیچیے اپنا
اللہ کو دینا ہے حساب آپ کو مر کر
شبنم بھٹکلی
حنیف شاہ
No comments:
Post a Comment