آوازوں کے بلوے سے جب ننگے سر خاموشی گزری
خاک اڑاتی ساتھ میں زندہ غیرت کی اک لاش بھی گزری
کوچہ بہ کوچہ قریہ بہ قریہ پشتِ خمیدہ سے جکڑی
طوق و سلاسل کے ہمراہ زنجیر بھی شور مچاتی گزری
لاکھوں تماشائی آنکھوں کے بیچ جھکا کر اپنا سر
بے مقنع تصویر حیا کی آنکھ سے خون بہاتی گزری
دھنسے رہے تاعمر گلے میں طوقِ گراں کے لمبے خار
قیدی پر ہر آن قیامت آزادی کے بعد بھی گزری
ہر ساعت غیرت کا جہاں سے ہائے جنازہ نکلا ہو
زندہ وہاں سے کس عالم میں سوچ ذرا خودداری گزری
دیکھ کے منظر سہمے ہوئے چہروں پہ بکھری زلفوں کا
سورج کی کرنوں سے پھوٹی روشنی تک فریادی گزری
شعر نہیں یہ مرہمِ جاں ہے اُس بیمار کی خدمت میں
جس کے شکستہ دل پہ اذیّت لوگوں کے طعنوں کی گزری
فکر برہنہ پا مقتل سے پہنچی جب بازار ندیم
فرطِ الم میں ہر کوچے سے ہائے خاک اڑاتی گزری
ندیم سرسوی
No comments:
Post a Comment