Monday, 7 September 2026

اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں

 اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں

میں طوفاں بھانپ کر پھر بھی کنارے چھوڑ دیتا ہوں

مجھے تنہا ہی رہنا ہے کسی سے کچھ نہیں کہنا

جو دل بیزار ہو جائے تو سارے چھوڑ دیتا ہوں

زیادہ دیر دل اک کام میں ٹک کر نہیں لگتا

میں پنجرہ کھول دیتا ہوں غبارے چھوڑ دیتا ہوں

بہت باتیں بناتا ہوں میں کافی بولتا بھی ہوں

مگر جو گفتگو ہو تیرے بارے چھوڑ دیتا ہوں

کسی کا قرض کاندھے پر اٹھانے سے میں ڈرتا ہوں

میں قصداً ڈوب جاتا ہوں سہارے چھوڑ دیتا ہوں


ندیم اصغر

No comments:

Post a Comment