Tuesday, 18 August 2026

نیا سفر ہے کوئی کارواں ہے کہ نہیں

 نیا سفر ہے، کوئی کارواں ہے کہ نہیں؟

راستے پر کسی منزل کا نشاں ہے کہ نہیں؟

چراغ بجھنے لگے ہیں صبح کی ٹھنڈک سے

اب اگلی دھوپ میں بھی سائباں ہے کہ نہیں؟

تمہارے شہر کی ویرانی جاں لیوا ہے

تم ہی بتاؤ یہاں امن و اماں ہے کہ نہیں؟

شدتِ کرب میں پوچھا ہے ایک دل نے سوال

نئے شہر میں کوئی مہرباں ہے کہ نہیں؟

خط پڑھتے ہوئے احساس کی سچائی پرکھ

جگر کا خون بھی لفظوں میں رواں ہے کہ نہیں؟

وفائیں مٹ گئیں دنیا سے فلک، تُو ہی بتا

تیری بانہوں میں کوئی کہکشاں ہے کہ نہیں؟

کم اذیت نہیں، یکطرفہ محبت کا وجود

دل شجاع دیکھ محبت سے نہاں ہے کہ نہیں؟


کاشف شجاع

No comments:

Post a Comment