ہر اِک شے بانجھ کرتا شور ہے
دُعا کی کھیتیاں
اس میں اُگی اُمید، ساری گُفتگو، جُملے
خلِش اور واہموں کی تھاپ پر یہ ناچتے نوحے
یہ سارے سِلسلے چُپ کے
پروں کو نوچ کے بخشی گئیں آزادیاں دل کی
یہ سارے دائرے، رستے
ہر اک شے بانجھ کرتا شور ہے اور شور کی زد میں
سکُوتِ مُستقل ہے
خوف ہے
بنجر زمینیں ہیں
نجمہ نسیم
No comments:
Post a Comment