Tuesday, 4 August 2026

سمٹا تو میں ذرہ ہوں بکھرا تو میں صحرا ہوں

 سمٹا تو میں ذرہ ہوں بکھرا تو میں صحرا ہوں

تھم جاؤں تو قطرہ ہوں بہہ جاؤں تو دریا ہوں

کیوں طور پہ میں جاؤں کیوں عرش پہ میں جاؤں

اس کا ہی تو پرتو ہوں میں اس کے سوا کیا ہوں

کیا کوئی شریک غم ہو گا مِرا دنیا میں

وہ عرش پہ تنہا ہے، میں فرش پہ تنہا ہوں

سمجھوں تو اگر خود کو بن جاؤں مہ کامل

مانا کہ فلک سے میں ٹوٹا ہوا تارا ہوں

کیوں مجھ کو چڑھاتے ہیں وہ دار پہ رومانی

میں خاک کے پردہ میں اس کا ہی تو جلوہ ہوں


کریم رومانی

No comments:

Post a Comment