سمٹا تو میں ذرہ ہوں بکھرا تو میں صحرا ہوں
تھم جاؤں تو قطرہ ہوں بہہ جاؤں تو دریا ہوں
کیوں طور پہ میں جاؤں کیوں عرش پہ میں جاؤں
اس کا ہی تو پرتو ہوں میں اس کے سوا کیا ہوں
کیا کوئی شریک غم ہو گا مِرا دنیا میں
وہ عرش پہ تنہا ہے، میں فرش پہ تنہا ہوں
سمجھوں تو اگر خود کو بن جاؤں مہ کامل
مانا کہ فلک سے میں ٹوٹا ہوا تارا ہوں
کیوں مجھ کو چڑھاتے ہیں وہ دار پہ رومانی
میں خاک کے پردہ میں اس کا ہی تو جلوہ ہوں
کریم رومانی
No comments:
Post a Comment