دولت درد کمانے کے لیے زندہ ہیں
لطف جینے کا اٹھانے کے لیے زندہ ہیں
فرق یہ کم ہے کہ تم اپنے لیے جیتے ہو
اور ہم سارے زمانے کے لیے زندہ ہیں
ٹوٹ کر بھی تو ہیں پیوستہ شجر سے اب تک
ہم نئی زندگی پانے کے لیے زندہ ہیں
وہ محافظ ہیں جنہیں تم نے کمانیں دی ہیں
بے کماں صرف نشانے کے لیے زندہ ہیں
حق دبایا ہے تو کچھ دیر دبائے رکھیے
لوگ ابھی شور مچانے کے لیے زندہ ہیں
اب سفر آخری تنہا نہ کرے گا کوئی
غم بہت ساتھ نبھانے کے لیے زندہ ہیں
ایسا لگتا ہے کہ ناراض ہے دنیا نظمی
اور ہم اس کو منانے کے لیے زندہ ہیں
نظمی سکندرآبادی
No comments:
Post a Comment