Thursday, 12 February 2026

سمندر میں بہا آؤں سب لمحے سبھی یادیں سبھی منظر

 سمندر میں بہا آؤں


وہ یادوں سے بھرا البم

وہ سارے کارڈز

پھولوں کے سبھی تحفے

وہ لمحے خواب کے جیسے

فضاؤں میں رچی خوشبو

خلاؤں کے سفر پر ہے

ہواؤں کے تھپیڑوں نے

بدل ڈالا ہے سب کچھ ہی

مجھے بیتی رُتوں کے

سارے منظر آج ڈستے ہیں

چبھن بن کر کھٹکتے ہیں

چلو میں آج

سب لمحے، سبھی یادیں، سبھی منظر

سمندر میں بہا آؤں


سحر حسن

No comments:

Post a Comment