سمندر میں بہا آؤں
وہ یادوں سے بھرا البم
وہ سارے کارڈز
پھولوں کے سبھی تحفے
وہ لمحے خواب کے جیسے
فضاؤں میں رچی خوشبو
خلاؤں کے سفر پر ہے
ہواؤں کے تھپیڑوں نے
بدل ڈالا ہے سب کچھ ہی
مجھے بیتی رُتوں کے
سارے منظر آج ڈستے ہیں
چبھن بن کر کھٹکتے ہیں
چلو میں آج
سب لمحے، سبھی یادیں، سبھی منظر
سمندر میں بہا آؤں
سحر حسن
No comments:
Post a Comment