ایک نڈھال نظم
تالیوں کی گونج
زائل ہو چکی
ہال خالی ہو چکا
داد کے بکسے اُلٹ کر چل دئیے
لوگ میری چیختی نظموں کی
بولی دے چکے
میں جمع تفریق کی مد میں
بِنا ترتیب سانسوں کی
گُھٹن سے چُور ہوں
کاش دھرتی آسماں کی
وُسعتوں کو جانتی
خواب میں پنہاں
حقیقت کو حقیقت مانتی
ہاں مگر
ان داستانوں کا سکندر کون ہے
کون ہے
اُفتادگی کی ساعتوں کا ہمنوا
کون ہے
تفہیم کی تشنہ لبی کا رازداں
کون ہے
کوئی نہیں
وہ جو آئے تھے
وہ آ کر جا چکے
سدریٰ افضل
سدرہ افضل
No comments:
Post a Comment