عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمدﷺ کا نگر ہے اور میں ہوں
درِ آقاﷺ پہ سر ہے اور میں ہوں
جبیں پر ہے غبارِ خاکِ طیبہ
نظاروں پر نظر ہے اور میں ہوں
تصورکے چمن زاروں میں دیکھا
مِرا نورِ نظر ہے، اور میں ہوں
حرم ہے، گنبدِ خضرٰی کا سایہ
حسیں محراب ودر ہےاور میں ہوں
چلا ہے قافلہ شہرِ نبیﷺ کو
سفر کیا با ثمر ہے اور میں ہوں
چلی ہوں سوئے طیبہ یہ کسی کی
دُعاؤں کا اثر ہے، اور میں ہوں
محبّانِ نبیﷺ میں ہوں، یہ قصّہ
بڑا ہی مختصر ہے اور میں ہوں
درِ شاہِ اممﷺ پر رونے والی
مِری یہ چشمِ تر ہے اور میں ہوں
نہ جانے کب سے یادوں کے حوالے
درِ دل اک شرر ہے اور میں ہوں
بلا بھیجا ہے پھر سے عاشقوں کو
عنایت پر نظر ہے اور میں ہوں
حرم پہنچوں تو بن جائے گی بگڑی
سعادت کا وہ گھر ہے اور میں ہوں
مِری منزل،۔ مِرا اک آشیانہ
درِ پُر نُور پر ہے اور میں ہوں
نہ پہنچوں کیوں سرِ منزل میں زینب
نبیﷺ سا راہبر ہے اور میں ہوں
سیدہ زینب سروری قادری
No comments:
Post a Comment