صفحات

Thursday, 12 February 2026

اسے بھی محبت کا آزار ہے

 مسیحا سنا ہے کہ بیمار ہے

اسے بھی محبت کا آزار ہے

حقیقت کا جو بھی پرستار ہے

اسی کے لیے تختۂ دار ہے

عمل سے بھی کوئی سروکار ہے

فقط شیخ غازئ گفتار ہے

وفا جرم ہے تو سزا دیجیے

مجھے اس خطا سے کب انکار ہے

جسے کوئی سننا نہیں چاہتا

چھپانا وہی بات دشوار ہے

یہ مژدہ ہے شیخِ حرم کے لیے

خدا کو بھی اصنام سے پیار ہے

وہ جس نے دیا تھا غمِ جاوداں

وہی آج تک میرا غمخوار ہے


آتش بہاولپوری

دیوی دیال

No comments:

Post a Comment