محبت اور ضرورت
میں اپنے دل کی سب سچائیوں کے ساتھ
یہ اقرار کرتا ہوں
میں تم سے پیار کرتا ہوں
مگر جو کہ رہا ہوں میں
بہت ممکن ہے کہ پورے سچ کی آنچ
اس سے نہ گزری ہو
میرے ہونٹوں پہ جو لفظِ محبت ہے
بہت ممکن ہے وہ میری ضرورت ہو
محبت اور ضرورت
اپنی اپنی سرحدوں میں قید ہیں
دونوں کی دنیائیں الگ ہیں
میں اک دنیا میں ہوں
اور دوسری دنیا کے خواب
آتے ہیں آنکھوں میں
ادھوری چاہتیں میری
ادھوری داستاں میری
میرے جذبے ادھورے ہیں
میری خواہش کے پیمانے ادھورے ہیں
محبت کے میرے ہونٹوں پہ
افسانے ادھورے ہیں
ادھورے پن کی اِک دنیا
میرے چاروں طرف ھے
پھر اپنے دل کی
سب گہرائیوں کے ساتھ
سب سچائیوں کے ساتھ
یہ اقرار کرتا ہوں
میں تم سے پیار کرتا ہوں
اشفاق حسین
No comments:
Post a Comment