صفحات

Thursday, 12 February 2026

فکر ہے یہ شب وصال ہمیں

 فکر ہے یہ شب وصال ہمیں

کوستے ہوں گے بد سگال ہمیں

آگے آگے جلو میں ہوں اغیار

بزم سے اس طرح نکال ہمیں

کس نے چھوڑا ہے ایسے مہوش کو

ناصحو! دو کوئی مثال ہمیں

ہم سے کہتے ہیں بعدِ دعوتِ غیر

نہ رہا آپ کا خیال ہمیں

حیف، با ایں ہمہ ہوا خواہی

وہ سمجھتے ہیں بد سگال ہمیں

جا کے مسجد میں پھر بنیں نا امام

واں ملے گر صف نعال ہمیں

مل گیا جب دل اپنا اور ان کا

نہ رہی خواہشِ وصال ہمیں


مشتاق دہلوی

منشی بہاری لال

No comments:

Post a Comment