فکر ہے یہ شب وصال ہمیں
کوستے ہوں گے بد سگال ہمیں
آگے آگے جلو میں ہوں اغیار
بزم سے اس طرح نکال ہمیں
کس نے چھوڑا ہے ایسے مہوش کو
ناصحو! دو کوئی مثال ہمیں
ہم سے کہتے ہیں بعدِ دعوتِ غیر
نہ رہا آپ کا خیال ہمیں
حیف، با ایں ہمہ ہوا خواہی
وہ سمجھتے ہیں بد سگال ہمیں
جا کے مسجد میں پھر بنیں نا امام
واں ملے گر صف نعال ہمیں
مل گیا جب دل اپنا اور ان کا
نہ رہی خواہشِ وصال ہمیں
مشتاق دہلوی
منشی بہاری لال
No comments:
Post a Comment