صفحات

Saturday, 14 February 2026

یہ ہے آج ہی رات کی داستاں

 زعفرانی کلام ہاتھ کی روانی


یہ ہے آج ہی رات کی داستاں

کہ تھے میہماں میرے اک مہرباں

دکھاؤں میں حضرت کے کھانے کا ڈھنگ

لکھوں ان کے لقمے اڑانے کا رنگ

پلیٹوں میں ہلچل مچاتا ہوا

وه چمچے سے چمچا لڑاتا ہوا

افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے

 افیمی سو رہا ہے


افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے

سو ہرن کو شیر کھا جائے

عقابوں کے جھپٹتے غول سہمے میمنے کو نوچتے جائیں

کوئی بکری کسی چیتے کو 

تھوڑی گھاس کے بدلے سبھی اعضا کھلا بیٹھے

ہزاروں مکھیوں کی سخت محنت سے بنا 

جہالت مٹ گئی ساری قرینے میں نظام آیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جہالت مٹ گئی ساری، قرینے میں نظام آیا

جہاں میں جب بصد عزت مرا خیرالانامؐ آیا

زمانے میں نبیؐ کی ہو گئی جلوہ گری جس دم

زمیں کو آسماں کا با ادب اس دم سلام آیا

صدائیں گونج اٹھیں ہر طرف ان کی ولادت پر

مبارک ہو مبارک وہ رسولوں کا امامﷺ آیا

Friday, 13 February 2026

موت کے بعد پھر رقص ہی رقص ہے

 رقص


کھولتے آب میں

رقص کرتے ہوئے بلبلے

قابلِ غور ہیں

کیا تپش ہے جو ان کو بناتی ہے اور

اتنا مجبور کرتی ہے کہ

ناچتے ناچتے

ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا

ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا

ہمارے سانس لینے سے پہلے

چیخ کر رونے پر پابندی لگا دی گئی تھی

چپ میں لپیٹ کر ہمیں ہماری ماؤں کے حوالے کر دیا گیا

اس سے پہلے انہیں

بے آواز گیت یاد کروائے گئے

اسی باعث زیادہ ہنس رہا ہوں

 اسی باعث زیادہ ہنس رہا ہوں

میں بالکل بے ارادہ ہنس رہا ہوں

سجے ہیں زخم سینے پر ہزاروں

مگر میں حسبِ وعدہ ہنس رہا ہوں

نہیں ہے مطمئن منزل پہ کوئی

میں ہو کر وقفِ جادہ ہنس رہا ہوں

دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا

 دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا

کس کو کھنڈر ملے گا مِری باش و بود کا

الجھا ہوا خدا بھی ہے دام دوام میں

ہے سلسلہ حدود سے باہر قیود کا

اک عمر کی بسی ہوئی خوشبو نکل گئی

اعلان کر رہا ہے تعفّن وجود کا

تو امر واقعہ یہ ہے یہ بیوہ ہو گئی تھی

 امر واقعہ


تو امر واقعہ یہ ہے

یہ بیوہ ہو گئی تھی

اور اس نے ناسمجھ بچوں کو یوں ہی بھیک سے پالا ہے پوسا ہے

جواں بیٹے ہیں اب اپنا کماتے ہیں

انہیں تو معاشرے میں زندہ رہنا ہے

نہیں کافی سلیقہ نعت میں بس خوش بیانی کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت 


نہیں کافی سلیقہ نعت میں، بس خوش بیانی کا

مرے آقاﷺ عطا ادراک ہو، لفظ و معانی کا

جھڑی ایسی لگی، آقاؐ کی رحمت جوش میں آئی

نصیبہ کھل گیا پل میں، مری آنکھوں کے پانی کا

وہ راحت پائی ہے اس نے درِ سرکارؐ پر آ کر

نہیں کوئی ارادہ دل کا اب نقلِ مکانی کا

Thursday, 12 February 2026

بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی

 بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی

ایک پتھر کو محبت کا خدا لکھتی رہی

بارہا مظلوم غنچوں کو تڑپتا دیکھ کر

زرد پتوں پر لہو سے کربلا لکھتی رہی

کارواں لٹنے پہ اب خود سے بہت بیزار ہوں

جانے کیوں میں رہزنوں کو رہنما لکھتی رہی

کہ ہجرت کیا ہے

 کسے معلوم ہے اک دن

مجھے پھر ایک ان دیکھے جزیرے کی طرف چپ چاپ جانا ہے

جہاں صندل کے قد آور درختوں تلے

کچھ لوگ میرے منتظر ہوں گے

انہیں تشویش ہو گی مجھ سے پوچھیں گے

کہ ہجرت کیا ہے؟

فکر ہے یہ شب وصال ہمیں

 فکر ہے یہ شب وصال ہمیں

کوستے ہوں گے بد سگال ہمیں

آگے آگے جلو میں ہوں اغیار

بزم سے اس طرح نکال ہمیں

کس نے چھوڑا ہے ایسے مہوش کو

ناصحو! دو کوئی مثال ہمیں

اسے بھی محبت کا آزار ہے

 مسیحا سنا ہے کہ بیمار ہے

اسے بھی محبت کا آزار ہے

حقیقت کا جو بھی پرستار ہے

اسی کے لیے تختۂ دار ہے

عمل سے بھی کوئی سروکار ہے

فقط شیخ غازئ گفتار ہے

میں تم سے پیار کرتا ہوں

 محبت اور ضرورت


میں اپنے دل کی سب سچائیوں کے ساتھ

یہ اقرار کرتا ہوں

میں تم سے پیار کرتا ہوں

مگر جو کہ رہا ہوں میں

بہت ممکن ہے کہ پورے سچ کی آنچ

جائیں تو کہاں جائیں سرکار مدینے سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جائیں تو کہاں جائیں سرکار مدینے سے

چلتا ہے ہمارا تو گھر بار مدینے سے

صدقہ اسی در کا تو کھاتے ہیں سبھی عالم

ایک میں ہی نہیں آقا سرشار مدینے سے

یہ نعت کسی انساں کے بس کی نہیں ہوتی

آئیں نہ اگر دل میں افکار مدینے سے

سمندر میں بہا آؤں سب لمحے سبھی یادیں سبھی منظر

 سمندر میں بہا آؤں


وہ یادوں سے بھرا البم

وہ سارے کارڈز

پھولوں کے سبھی تحفے

وہ لمحے خواب کے جیسے

فضاؤں میں رچی خوشبو

خلاؤں کے سفر پر ہے

Wednesday, 11 February 2026

اے وطن میں نے کب چھوڑا تھا تجھ کو

 اے وطن


اے وطن

میرے وطن پیارے وطن

میں نے کب چھوڑا تھا تجھ کو

میں تجھے بھولا ہی کب تھا

دور تھا تجھ سے

مگر اس دل میں ہر دن موجزن تھی تیری یاد

میں ایک صندوق اٹھائے چل رہا ہوں

 بغیر جنازے کے دفنائی گئی محبت


میں ایک صندوق اٹھائے چل رہا ہوں

جو ماں کی آخری نشانی ہے

جس میں کچھ چیزیں ہیں

ایک رومال جو پہلی محبوبہ کا تحفہ ہے

ایک تصویر جو میری نہیں

ایک زنجیر جو قید خانے میں

عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی

 فلمی گیت عجیب ہے یہ زندگی 


عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی

ہر ایک شے ہے بے یقیں ہر ایک چیز عارضی


یہ کارواں رکے کہاں کہ منزلیں ہیں بے نشاں

چھپے ہوئے ہیں راستے یہاں وہاں دھواں دھواں

خطر ہیں کتنے راہ میں سفر ہے کتنا اجنبی

عجیب ہے یہ زندگی


وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں

 فلمی گیت


وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں

میرے ہر خواب کی تعبیر بنے بیٹھے ہیں


چاند ان آنکھوں کو دیکھے تو کنول بن جائے

رات ان ہونٹوں کو چھو لے تو غزل بن جائے

ان کی زلفوں کا حال مت پوچھو

مجھ سے میرا خیال مت پوچھو

خزاں کے مارے ہوئے جانب بہار چلے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خزاں کے مارے ہوئے جانبِ بہار چلے

قرارِ پانے زمانے کے بے قرار چلے

وہیں پہ تھام لیا ان کو دستِ رحمت نے

نبی کے در کی طرف جب گنہگار چلے

اے تاجدارِ جہاں! اے حبیبِﷺ رب کریم

وہ بھیک دو کہ غریبوں کا کاروبار چلے

بہت سے قیمتی لمحے جو راہ شوق میں گزرے

 نا آشنا


بہت سے قیمتی لمحے

جو راہ شوق میں گُزرے

جو خوابوں کے جزیرے میں

ستاروں جیسے روشن تھے

نہیں معلوم وہ لمحے، حقیقت تھے

Tuesday, 10 February 2026

عجیب سا میں عجیب دنیا

 عجیب سا میں

عجیب دنیا

رواج کے ساتھ چل رہا ہوں

نہ منطبق مجھ میں یہ زمانہ

نہ میں زمانے کو ہمنوا ہوں


جمیل احسن

کرن کے رتھ پر سوار ہو کر

 آخری ساعت کے نام


کرن کے رتھ پر سوار ہو کر

ندی کی لہروں پہ چاند اپنی

تمام روداد لکھ چکا ہے

نئی اُڑانیں

طویل رستہ

بسیط سمتیں

یہ اپنے وصل کا پہلا گهر ہے

 قیام


آؤ رات کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر کسی سمت چلتے ہیں 

آؤ کسی لمحے کی آنکهوں میں آنکهیں ڈال کر 

کچھ میٹهی باتیں کرتے ہیں 

ریت سے کچھ وعدے چُنتے ہیں 

خیالوں کی دهڑکنوں کو سُنتے ہیں 

آؤ بیٹھ جاؤ

جان لو یہ ریاست مریض ہے

 مرگ دھرنا


تفنگ کو قلم پہ فوقیت ملے تو جان لو یہ ریاست مریض ہے

ستمگروں کے راج میں ستم زدوں پہ احتجاج فرض ہے

یہ جانتے ہوئے کہ رونے والوں کو حق نہیں ملتا

چیخ لازم ہے بہرحال

اپنے بچوں کے قتل پر ماؤں کی مانگ کچھ نہیں ہوتی

پاک کس عیب سے وہ پیکر تنویر نہ تھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پاک کس عیب سے وہ پیکرِ تنویر نہ تھا

حسنِ بے پردہ پہ کب پردۂ تطہیر نہ تھا

سینۂ سنگ دلاں میں بھی کیا گھر جس نے

غمزۂ ابروئے رحمت تھا کوئی تیر نہ تھا

آپ اُس وقت بھی تھے قصرِ حقیقت کا جمال

جب کہ اک پایہ بھی سنسار کا تعمیر نہ تھا

مستقبل اک بچہ ہے حال کی گود تک آتے آتے

 مستقبل


مستقبل اک بچہ ہے

حال کی گود تک آتے آتے

رخساروں پر اس کے سبزے کی چادر چھا جاتی ہے

پھر کروٹ لیتی ہے خزاں کی زہر میں ڈوبی کالی کالی تیز نگاہ

رخ پہ طمانچے لگتے ہیں

درد کے صحرا میں اک لڑکا جو کل تک اک بچہ تھا

انہیں معلوم ہے سب کچھ

 پہلی دنیا کی اقوام


انہیں معلوم ہے کیسے کہاں پہ جنگ کے بادل اٹھانا ہیں

کہاں جھکڑ چلانا ہیں

کسے آگے بڑھانا ہے

کسے پیچھے ہٹانا ہے

زمیں کی گیند کو کیسے گھمانا ہے

مقابل کس کو لانا ہے

تمہیں میں بھولنا چاہوں گا تو مر جاؤں گا

 تمہیں جب دیکھتا ہوں تو

مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیں

تمہیں سنتا ہوں 

تو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں

اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہے 

تمہارا نام لیتا ہوں 

Monday, 9 February 2026

ہماری شکلیں آگ سے دھلے آئینوں نے مسخ کر دیں

 آگ سے دُھلے آئینے


ہماری شکلیں آگ سے دُھلے آئینوں نے مسخ کر دیں

پھول کمہلانے کی تکلیف جلنے سے بہرحال کم ہے 

بستی بستی پناہ ڈھونڈتے رسول

اور درزوں میں چھپے دھوکے

آسمان کس قدر دل گرفتہ ہے 

کیا بارہ بجے کے بعد سو جانا چاہیے

 آدھی رات کو

کیا بارہ بجے کے بعد سو جانا چاہیے؟

رات کے احترام میں

رات چلتے چلتے چھت تک آ گئی ہے

ایک بلب تھک کے اونگھ رہا ہے

اسے نیند کا پتھر مار کر بجھا دو

اک لطف بیکراں ہے رکوع و سجود میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اک لطف بیکراں ہے رکوع و سجود میں

ہیں لذتیں کمال قیام و قعود میں

روحوں سے جسم تک ہے تعفّن مچا ہوا

کتنا بڑا زياں ہے محبت کے سود میں

محشور ہوں گے اپنے عمل کے سبب کئی

قوم شعیب و لوط میں، عاد و ثمود میں

چاند اپنی وسعتوں میں گم شدہ رہ جائے گا

 چاند اپنی وسعتوں میں گم شدہ رہ جائے گا

ہم نہ ہوں گے تو کہاں کوئی دیا رہ جائے گا

رفتہ رفتہ ذہن کے سب قمقمے بجھ جائیں گے

اور اک اندھے نگر کا راستہ رہ جائے گا

تتلیوں کے ساتھ ہی پاگل ہوا کھو جائے گی

پتیوں کی اوٹ میں کوئی چھپا رہ جائے گا

دست قاتل جب ہوا موزوں نگینے کے لیے

 دستِ قاتل جب ہوا موزوں نگینے کے لیے

دُھول بھی رکھی گئی پھر آبگینے کے لیے

کوچۂ دیوانگی سے جب سے نکلے اہلِ دل

عشق کی ذِلّت سنبھالی خوں پسینے کے لیے

کیا مجالِ تشنگی جو آئے اپنے روبرو

غم کا ساغر ساتھ رکھا ہم نے پینے کے لیے

بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی

 مجھی سے پوچھ رہا تھا مِرا پتا کوئی

بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی

خموشیوں کی چٹانوں کو توڑنے کے لیے

کسی کے پاس نہیں تیشۂ صدا کوئی

 درخت ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے

مِرے جنوں کا مبارک تھا مرحلہ کوئی

Sunday, 8 February 2026

گزشتہ لفظوں کے معبدوں میں قدیم لہجے پڑے ہوئے ہیں

 گزشتہ لفظوں کے معبدوں میں قدیم لہجے پڑے ہوئے ہیں

ابھی زباں کے موہنجو داڑو میں کچھ صحیفے پڑے ہوئے ہیں

یہاں نشیب و فراز کیسا،۔ جو بھاگنا ہے تو بھاگنا ہے

ہماری قسمت ہمارے سائے ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں

خیال رستوں پہ چلتے چلتے جنازے گِرنے لگے زمیں پر

کسی نے بس اتنا کہہ دیا تھا زمیں پہ سِکّے پڑے ہوئے ہیں

جشن بپا ہے کٹیاؤں میں اونچے ایواں کانپ رہے ہیں

 جشن بپا ہے کٹیاؤں میں، اونچے ایواں کانپ رہے ہیں

مزدروں کے بگڑے تیور دیکھ کے سلطاں کانپ رہے ہیں

جاگے ہیں افلاس کے مارے، اُٹھے ہیں بے بس دکھیارے

سینوں میں طوفاں کا تلاطم، آنکھوں میں بجلی کے شرارے

چوک چوک پر گلی گلی میں سرخ پھریرے لہراتے ہیں

مظلوموں کے باغی لشکر سیل صفت اُمڈے آتے ہیں

آپ کا اسم گرامی اس قدر اچھا لگے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آپﷺ کا اسمِ گرامی اِس قدر اچھا لگے

باغ میں سب سے حسیں جیسے شجر اچھا لگے

عرش کی جانب سفر ہو یا مدینے کی طرف

آپﷺ کا عزمِ سفر اور ہمسفر اچھا لگے

احترام اُن کا بجا اپنی جگہ لیکن مجھے

اپنے ماں اور باپ سے اپنا عمر اچھا لگے

یعنی بے گھر ہوا میں شہر میں اک گھر لے کر

 لوگ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں مجھے پتھر لے کر

میں تو آیا نہیں کردار پیمبر لے کر

مجھ کو معلوم ہے معدوم ہوئی نقد وفا

پھر بھی بازار میں بیٹھا ہوں مقدر لے کر

روح بے تاب ہے چہروں کا تاثر پڑھ کر

یعنی بے گھر ہوا میں شہر میں اک گھر لے کر

چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا

 زعفرانی کلام


چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا

شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا

چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ

کھا ڈبل روٹی، کلرکی کر، خوشی سے پھول جا

یہ موجودہ طریقے راہی ملکِ عدم ہوں گے

نئی تہذیب ہو گی اور نئے ساماں بہم ہوں گے

Saturday, 7 February 2026

میکدۂ نگاہ سے جام پلا گیا کوئی

 زعفرانی کلام


مے کدۂ نگاہ سے جام پلا گیا کوئی

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے الو بنا گیا کوئی

جذبۂ عشق کی کہاں قدر جہاں میں آج کل

سنتے ہی صرف مدعا تھانے چلا گیا کوئی

کوئے صنم میں گم تھا میں اپنے تصورات میں

ہارن بجا کے کار کا مجھ کو ڈرا گیا کوئی

لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑئیے

 زعفرانی کلام


لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑئیے

یہ تجارت ہے خلافِ آدمیت، چھوڑئیے

اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑئیے

روز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑئیے


کس کو سمجھائیں، اسے کھو دیں تو پھر پائیں گے کیا

ہم اگر رشوت نہیں لیں گے تو پھر کھائیں گے کیا

گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم

 زعفرانی کلام


گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم

شعر کہنے کا سوال آئے تو مجبور ہیں ہم

اپنے اشعار سمجھنے سے بھی معذور ہیں ہم

فن سے غالب کے بہت دور بہت دور ہیں ہم

اپنی شہرت کی الگ راہ نکالی ہم نے

کسی دیواں سے غزل کوئی چرا لی ہم نے

عاصی ہیں گہنگار ہیں شرمائے ہوئے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عاصی ہیں گہنگار ہیں شرمائے ہوئے ہیں

دامن تِرے دربار میں پھیلائے ہوئے ہیں

محبوب کے صدقے میں ہمیں بخش دے مولیٰ

ہم آس یہی در پہ لگائے ہوئے ہیں

تُو بخش دے ہم تیرے ہی بندے ہیں الٰہی

نادم ہیں، سیہ کاری پہ شرمائے ہوئے ہیں

حادثہ سانحہ المیہ یہ ہوا

 آزاد غلام


حادثہ، سانحہ، المیہ یہ ہوا

وہ خریدے گئے اور وہ بک بھی گئے

بس میری قوم سے اک خامی نہیں جاتی

آزادی کے قفس سے غلامی نہیں جاتی

شاہانہ سلطنت اجازت آہ کی جن سے چھین لیتی ہے

رعایا جام غلامی کے مگر بھر بھر کے پیتی ہے

اداس رہنا بھی اک صفت ہے

 اداس رہنا بھی اک صفت ہے

اگر تم اس کو سمجھ سکو گے

تو پھر اداسی کنیز بن کر

تمہارے پہلو میں بیٹھ کر کے

تمہارے ہاتھوں کو تھام لے گی

تمہیں تسلی سے دیکھ کر کے

وہ جدھر سے گزر کے جاتے ہیں

 وہ جدھر سے گزر کے جاتے ہیں

بن کے خوشبو بکھر کے جاتے ہیں

چاند بھی سر پٹکنے لگتا ہے

جب وہ سج کے سنور کے جاتے ہیں

میں نشے میں بہکنے لگتا ہوں

پیالے آنکھوں سے بھر کے جاتے ہیں

ہجر کو مختصر تو دیکھا ہے

 ہجر کو مختصر تو دیکھا ہے

شب میں رنگِ سحر تو دیکھا ہے

یہ طلسمِ نظر تو دیکھا ہے

بادلوں میں قمر تو دیکھا ہے

ہائے تیرِ نطر کا کیا کہنا

اپنا زخمی جگر تو دیکھا ہے

Friday, 6 February 2026

آپ کو سکے ملے چاندی ملی سونا ملا

 جنتا کی فریاد


آپ کو سکے ملے چاندی ملی سونا ملا

دولت آئی ہاتھ سامانِ طرب افزا ملا

گھر سے دروازے تک آنا بھی نزاکت پر ہے بار

جب نہیں موٹر رہا، اڑنے کو طیارا ملا

چپہ چپہ ملک کا ہے آپ کی املاک میں

دشت و کوہستاں ملے، جنگل ملا، دریا ملا

کہیں پہ صدق کا چہرہ کہیں صفا کا رنگ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کہیں پہ صدق کا چہرہ کہیں صفا کا رنگ

رواں ہے سورۂ والذکر میں ثنا کا رنگ

نہ ابتداء کی علامت نہ انتہا کا رنگ

خدا کے رنگوں میں پنہاں رہا انا کا رنگ

عجیب شہر ہے سر سبز ہے ہوا کا رنگ

گلی گلی سے عیاں حُسنِ نقشِ پا کا رنگ

مرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں

 مِرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں

کہ یوں لگتا ہے مجھ میں اپسرائیں رقص کرتی ہیں 

اسی امید پر شاید کبھی خوشبو کوئی اترے

مِری یادوں کے آنگن میں ہوائیں رقص کرتی ہیں 

میسر ہی نہیں آتی مجھے اک پل بھی تنہائی

کہ مجھ میں خواہشوں کی خادمائیں رقص کرتی ہیں 

پھر وہی وقت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے

 پھر وہی وقت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے

تاج ہو تخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے

تِیرہ بختی کی کوئی حد بھی تو سکتی ہے

پھر وہ خوش بخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے

فاصلہ کم ہی سہی سرحدِ جاں تک لیکن

یہ سفر سخت ہو ایسا بھی تو سکتا ہے

Thursday, 5 February 2026

تو پرندوں سے لدی شاخ بنا لے مجھ کو

 تُو پرندوں سے لدی شاخ بنا لے مجھ کو

زندگی اپنی طرف اور جھکا لے مجھ کو

مانتا ہوں کے مجھے عشق نہیں ہے تجھ سے

لیکن اس وہم سے اب کون نکالے مجھ کو

ایک معصوم سی تتلی کو مسلنے والے

تُو تو دیتا تھا حدیثوں کے حوالے مجھ کو

نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہو گی

 نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہو گی

تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہو گی

نگاہ یار مِری سمت پھر اٹھی ہو گی

سنبھل سکوں گا نہ میں ایسی یہ بیخودی ہو گی

نگاہ پھیر کے جا تو رہا ہے تُو لیکن

تِرے بغیر بسر کیسے زندگی ہو گی

ہے کوچہ الفت میں وحشت کی فراوانی

 ہے کوچۂ الفت میں وحشت کی فراوانی

جب قیس کو ہوش آیا لیلٰی ہوئی دیوانی

پیش آئی وہی آخر جو کچھ کہ تھی پیش آئی

قسمت میں ازل ہی سے لکھی تھی پریشانی

دل اس کو دیا میں نے یہ کس کو دیا میں نے

غفلت سی مِری غفلت، نادانی سی نادانی

آس دل میں ہے مرے جلوۂ خضرائی کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

تضمین بر کلام رضا


آس دل میں ہے مِرے جلوۂ خضرائی کی

آنکھ سے حسرتیں گِرتی ہیں تمنّائی کی

میں نے غم، غم نے مِرے ساتھ شناسائی کی

’’ قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی‘‘

’’مشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی‘‘

ہے غم سے دل فگار غزل کس طرح کہوں

 ہے غم سے دل فگار غزل کس طرح کہوں

آنکھیں ہیں اشکبار، غزل کس طرح کہوں

گھیرے ہوئے ہیں موت کی پرچھائیاں مجھے

ہوں زندگی پہ بارِ، غزل کس طرح کہوں

آ، شاہدِ بہارِ وفا، جانِ زندگی

دامن ہے تار تار، غزل کس طرح کہوں

دعائیں مانگنے والوں کا انتشار ہے کیا

 دعائیں مانگنے والوں کا انتشار ہے کیا

یہ ماہ و سال کا اڑتا ہوا غبار ہے کیا

کوئی سبب ہے کہ یا رب سکون ہے اتنا

مجھے خبر ہی نہیں ہے کہ انتظار ہے کیا

اگر ہو دور تو قائم ہے دید کا رشتہ

اگر قریب ہو منظر تو اختیار ہے کیا

کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے

 کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے

بڑا عجیب سا عالم ہے کیا کیا جائے

ذرا سکوں ہو میسر تو کوئی بات بنے

یہاں تو گردش پیہم ہے کیا کیا جائے

کہیں سے چیخ بھی اٹھی تو رہ گئی دب کر

کہ گھنگھرؤں کی چھما چھم ہے کیا کیا جائے

Wednesday, 4 February 2026

خراب حال وفا کو رلائے جاتے ہیں

 خراب حال وفا کو رلائے جاتے ہیں

نظر چرائے ہوئے مسکرائے جاتے ہیں

وفا شعار سہی غیر مجھ سے کیوں کہیے

یہ روز کس لیے قصے سنائے جاتے ہیں

وفا کی قدر تری انجمن میں کیوں ہوتی

فریب غیر کے نقشے جمائے جاتے ہیں

جاگتے جاگتے عمر بسر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

 جاگتے جاگتے عمر بسر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

پل میں شب فرقت کی سحر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

جن لوگوں نے جان کے میرا گھر کچھ پتھر پھینکیں ہیں

وہ ان کا اپنا ہی گھر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

آج تو بس پتھر ہی پتھر اپنے سرہانے ہیں لیکن

کل ان کی آغوش میں سر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

بے سبب لرزے میں کب شہر مدینہ آیا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بے سبب لرزے میں کب شہرِ مدینہ آیا

زخم ایسا تھا کہ برچھی کو پسینہ آیا

کیا پشیمانی سہی پانی پہ قبضہ کر کے

ہاتھ میں تیرے نہ ساحل نہ سفینہ آیا

کیوں نہیں سینے پہ وہ سرخ نشاں کھینچتا ہے

جس کی قسمت میں محرم کا مہینہ آیا

دل بیتاب کا آنا ستم ہے

 دل بے تاب کا آنا ستم ہے

تڑپ کر پھر مچل جانا ستم ہے

مجھے سمجھا رہی ہے غیرت دل

وفا سے تیرا پھر جانا ستم ہے

وہ رہ کر چٹکیاں لیتے ہیں کیا کیا

ستم ہے دل میں بھی آنا ستم ہے

ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے

 ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے

کرتے ہیں اگر کچھ تو دکھاوا نہیں کرتے

یہ سچ ہے کہ دنیا کی روش ٹھیک نہیں ہے

کچھ ہم بھی تو دنیا کو گوارا نہیں کرتے

اک بار تو مہمان بنیں گھر پہ ہمارے

یہ ان سے گزارش ہے تقاضا نہیں کرتے

میں ہوں فلک کا مسافر سفر میں سورج ہے

 میں ہوں فلک کا مسافر سفر میں سورج ہے

قدم قدم پہ مری رہگزر میں سورج ہے

تمام چہرے جہاں میں اسی کے مظہر ہیں

گزرتے وقت کی شام ع سحر میں سورج ہے

ہے فکر و فہم میں اک آسماں اجالوں کا

حصارِ شب میں ہوں لیکن نظر میں سورج ہے

کس کو سنائیں اور کہیں کیا کسی سے ہم

 کس کو سنائیں اور کہیں کیا کسی سے ہم

سب کچھ لٹا کے بیٹھ گئے ہیں ابھی سے ہم

اپنی ہی کچھ خبر ہے نہ دنیا سے واسطہ

رہتے ہیں سب کے ساتھ مگر اجنبی سے ہم

یوں تو چراغ ہم نے بہت سے جلائے تھے

محروم پھر بھی رہتے رہے روشنی سے ہم

تبسم لب پہ آنکھوں میں محبت کی کہانی ہے

 تبسم لب پہ آنکھوں میں محبت کی کہانی ہے

تمہاری ہر ادا میں اک نشاط کامرانی ہے

بہت ہی مختصر اپنی حدیث زندگانی ہے

ترے عارض کے جلوے ہیں مرا خواب جوانی ہے

اسی ساغر میں ساقی دیکھ آب زندگانی ہے

کہ موج مے میں پنہاں راز عمر جاودانی ہے

Tuesday, 3 February 2026

یہ پلتا جا رہا ہے اعتماد سینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ پلتا جا رہا ہے اعتماد سینے میں

پہنچ ہی جاؤں گا میں خیر سے مدینے میں

کبھی تو سانس معطر مدینے میں ہو گی

کبھی تو جان پڑے گی ہمارے جینے میں

وہ دیں گے گنبد خضرا کا عکس آنکھوں کو

وہ بدلیں گے مرے کنکر کبھی نگینے میں

بے حجابانہ کبھی دعوت دیدار بھی دے

 بے حجابانہ کبھی دعوت دیدار بھی دے

لذت عشق بھی دے عشق کا آزار بھی دے

مسند علم و ادب پر متمکن فرما

نغمہ و شعر بھی دے خامۂ گلکار بھی دے

طاق ہر بزم میں رکھ شمع بنا کر مجھ کو

اور پروانہ صفت لذت آزار بھی دے

اسی کو حق ہے تمنائے لطف یار کرے

 اسی کو حق ہے تمنائے لطف یار کرے

جو آپ اپنی محبت پہ اعتبار کرے

بہت بجا یہ ترا مشورہ ہے اے واعظ

بھری بہار میں پرہیز بادہ خوار کرے

فسردگی سے بدل دے شگفتگی دل کی

جو چاہے ایک اشارے میں چشمِ یار کرے

ملے خوشی بھی جو کوئی تو مستعار نہ لوں

 جو مجھ پہ قرض ہے واجب اسے اتار نہ لوں

ملے خوشی بھی جو کوئی تو مستعار نہ لوں

یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کڑی مسافت میں

ہو سر میں شوق مگر خوفِ ریگزار نہ لوں

غنیمِ شہر کی سازش ہے مُنکشف مجھ پر

مصالحت کا اب احسان بار بار نہ لوں

عشق میں ڈوبا تو پھر میں نہ دوبارہ نکلا

 عشق میں ڈوبا تو پھر میں نہ دوبارہ نکلا

یہ وہ دریا تھا کہ جس کا نہ کنارہ نکلا

اک فقط تجھ سے ہی امید فراموشی تھی

تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا

جان و دل پہ مرے بن آئی ہے اس الفت میں

عشق کے سودے میں کیوں اتنا خسارہ نکلا

خیال پرسش فردا سے گھبرانا نہیں آتا

 خیال پرسش فردا سے گھبرانا نہیں آتا

گنہ کرتا ہوں لیکن مجھ کو پچھتانا نہیں آتا

یقین دعویٔ الفت نہیں مانا نہیں آتا

مگر یہ بھی تو ہے جھوٹوں کو جھٹلانا نہیں آتا

طبیعت ہے غیور ایسی کہ تشنہ کام رہتا ہوں

لگی لپٹی کسی کی سن کے پی جانا نہیں آتا

Monday, 2 February 2026

قلب مضطر کو ملے چین اے شاہ کونین

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قلبِ مضطر کو ملے چین اے شاہِ کونین

ہو کرم صدقۂ سبطین اے شاہِ کونینﷺ

میرا ہر دن بھی گزرتا ہے تری یادوں میں

ہجر میں روتی ہے ہر رین اے شاہِ کونین

مانگتے رہتے ہیں نظارہ طیبہ ہر دم

میرے یہ ترسے ہوئے نین اے شاہِ کونین

جنت آباد کو ویران کرتے جائیں گے

 جنت آباد کو ویران کرتے جائیں گے

گلستاں کو پاسباں شمشان کرتے جائیں گے

خانۂ جنت میں آدم زاد کا مسکن نہ ہو

اس غرض سے خود کو وہ شیطان کرتے جائیں گے

تم لگا کر آگ گلشن کو بھلے کر دو تباہ

ہم تو آتشدان کو گلدان کرتے جائیں گے

کوئی استخارہ اشارہ نہیں ہے

 کوئی استخارہ اشارہ نہیں ہے

مِرے زخم کا کوئی چارہ نہیں ہے

تمہارے مطابق نہیں چل سکے گا

یہ دل ہے ہمارا تمہارا نہیں ہے

یوں دیکھیں تو میرا سبھی کچھ لٹا ہے

مجھے اک طرح سے خسارا نہیں ہے

طور پر کہیے تو کیا آپ نے موسیٰ دیکھا

 طور پر کہیے تو کیا آپ نے موسیٰ دیکھا

حسن کو پردے میں دیکھا کہ بے پردہ دیکھا

زیرِ خنجر بھی زباں پر ہے مِری نام تِرا

دیکھا اک دوست کا اے دوست! کلیجہ دیکھا

دکھ میں نیند آئی مجھے بھی تو خضرا کی قسم

خواب میں میں نے سدا ایک ہی مکھڑا دیکھا

یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے

 یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے

بس ایک نام کی خاطر یہ نام کس کے لیے

مِرا وجود بصد اہتمام کس کے لیے

تمام عمر جلا صبح و شام کس کے لیے

یہاں تو کوئی نہیں اونگھتے دیوں کے سوا

بھرا ہے تم نے محبت کا جام کس کے لیے

بام و در یاد نہیں راہگزر یاد نہیں

 بام و در یاد نہیں راہگزر یاد نہیں

ایسے اجڑے ہیں کہ رودادِ سفر یاد نہیں

کس نے دیکھا تھا تباہی کا وہ منظر کیا تھا

جلتی شاخوں پہ پرندوں کی نظر یاد نہیں

ہم تمنا کے طلسمات میں الجھے ہوئے لوگ

ایسے بھٹکے ہیں ہمیں اپنا ہی گھر یاد نہیں

Sunday, 1 February 2026

تمام حمد بہ خاک اور فلک فلک اس کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بہار لطف نظارے جھلک، جھلک اس کی

جہانِ رنگ میں ساری دھنک، دھنک اس کی

کنول، گلاب، چنبیلی یہ رات کی رانی

چمن کے سارے گلوں کی مہک، مہک اس کی

یہ آفتاب، قمر اور برق برق سحاب

یہ جھلملاتے ستارے چمک، دمک اس کی

خاموشی شور کرتی ہے

 خاموشی شور کرتی ہے


کبھی بیلے کی ان بیلوں کو چھوؤ تو

جو ان دیکھی مسافت کے جزیروں پر

تمہارے نام کی دنیاؤں کو آباد کرتی ہیں

سخن ایجاد کرتی ہیں

سرِ شب رقص کرتی جھلملاتی چاندنی

اور آنکھ کی یہ پُتلیاں دیکھو

لطف غیروں پہ عام ہوتے ہیں

 لطف غیروں پہ عام ہوتے ہیں

ظلم ہم پر تمام ہوتے ہیں

یار ہونے کو عام ہوتے ہیں

نفس کے سب غلام ہوتے ہیں

زندگی سے جو پیار کرتے ہیں

موت سے ہمکلام ہوتے ہیں

یہ مصلحت اندیش کرم یاد رہے گا

 یہ مصلحت اندیش کرم یاد رہے گا

ساقی تری نظروں کا بھرم یاد رہے گا

غم یاد رہے گا نہ الم یاد رہے گا

اک حاصل غم ربط بہم یاد رہے گا

بتخانے کی عظمت کا پتہ جس سے ملا ہے

وہ حادثۂ دیر و حرم یاد رہے گا

گماں مجھ کو تھا انساں ہو گیا ہوں

 گماں مجھ کو تھا انساں ہو گیا ہوں

خبر کیا تھی میں شیطاں ہو گیا ہوں

ہوا کچھ اس طرح کی چل رہی ہے

بہت اندر سے ویراں ہو گیا ہوں

اچانک دوست ہندو ہو گئے ہیں

اچانک میں مسلماں ہو گیا ہوں

جس کو سمجھ رہے تھے مرے یار وہ نہیں

 جس کو سمجھ رہے تھے مِرے یار، وہ نہیں

ہے اور کوئی راہ کی دیوار، وہ نہیں

ہے آنکھ جس کی طالبِ دیدار، وہ نہیں

اچھا تو ہے مگر مجھے درکار وہ نہیں

یہ دل ہوا ہے جس کا گرفتار، وہ نہیں

سب سے حسیں وہی سہی دلدار وہ نہیں