اس لیے قدموں میں آیا ہی نہیں
راستہ مجھ میں سمایا ہی نہیں
وہ مجھے آواز دے گا کس طرح
نام تو میں نے بتایا ہی نہیں
میں خُوشی بن کر اسے مِلتا رہا
وہ مجھے سنبھال پایا ہی نہیں
جھانک لیتا تھا میں اس کی آنکھ میں
آئینہ میں نے بنایا ہی نہیں
میں کہانی غور سے سُنتا رہا
وہ مِرا کِردار لایا ہی نہیں
آ گیا ہوں لوٹ کر دفتر سے گھر
خواب کا ملبہ اُٹھایا ہی نہیں
میں زمیں کو اوڑھ کر سو جاؤں گا
آسماں کا سر پہ سایہ ہی نہیں
مجھ کو اک دو لفظ کافی تھے مگر
بد زباں نے ترس کھایا ہی نہیں
زاہد نبی
No comments:
Post a Comment