Saturday, 23 May 2026

اس لیے قدموں میں آیا ہی نہیں

 اس لیے قدموں میں آیا ہی نہیں

راستہ مجھ میں سمایا ہی نہیں

وہ مجھے آواز دے گا کس طرح

نام تو میں نے بتایا ہی نہیں

میں خُوشی بن کر اسے مِلتا رہا

وہ مجھے سنبھال پایا ہی نہیں

جھانک لیتا تھا میں اس کی آنکھ میں

آئینہ میں نے بنایا ہی نہیں

میں کہانی غور سے سُنتا رہا

وہ مِرا کِردار لایا ہی نہیں

آ گیا ہوں لوٹ کر دفتر سے گھر

خواب کا ملبہ اُٹھایا ہی نہیں

میں زمیں کو اوڑھ کر سو جاؤں گا

آسماں کا سر پہ سایہ ہی نہیں

مجھ کو اک دو لفظ کافی تھے مگر

بد زباں نے ترس کھایا ہی نہیں


زاہد نبی

No comments:

Post a Comment