ہم کہ ناچار اور کیا کرتے
مان لی ہار اور کیا کرتے
اپنی ہی بات پر مصر تھا وہ
اس سے تکرار اور کیا کرتے
پھوڑنا پڑ گئی جبیں اپنی
پیشِ دیوار اور کیا کرتے
ہم نے قاتل کو ایک گالی دی
بر سرِ دار اور کیا کرتے
کر دیا پاش پاش آئینہ
اپنا انکار اور کیا کرتے
ہم نے اندھا بنا لیا خود کو
سرِ بازار اور کیا کرتے
نفی کرتے نہ گر ضیا تیری
پھر تِرے یار اور کیا کرتے
ضیاءالرشید
No comments:
Post a Comment