صفحات

Saturday, 2 May 2026

ہمیں پانی ڈبوتا جا رہا ہے

 ہمیں پانی ڈبوتا جا رہا ہے

یہ گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے

عجب موسم ہے یہ انہونیوں کا

نہ ہونا تھا جو، ہوتا جا رہا ہے

غضب ہے جو ستم ڈھائے ہے دل پر

وہی دل میں سموتا جا رہا ہے

دلِ ناداں محبت کے صِلے میں

غموں کا بوجھ ڈھوتا جا رہا ہے

کرے گا جیسا، ویسا ہی بھرے گا

یہ کاٹے گا جو بوتا جا رہا ہے

کبھی ہے گفتگو سے پھول جھڑتا

کبھی موتی پروتا جا رہا ہے

لگائے جاتے ہیں جو داغ دل پر

نواز اشکوں سے دھوتا جا رہا ہے


شاہنواز سواتی

No comments:

Post a Comment