ہمیں پانی ڈبوتا جا رہا ہے
یہ گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے
عجب موسم ہے یہ انہونیوں کا
نہ ہونا تھا جو، ہوتا جا رہا ہے
غضب ہے جو ستم ڈھائے ہے دل پر
وہی دل میں سموتا جا رہا ہے
دلِ ناداں محبت کے صِلے میں
غموں کا بوجھ ڈھوتا جا رہا ہے
کرے گا جیسا، ویسا ہی بھرے گا
یہ کاٹے گا جو بوتا جا رہا ہے
کبھی ہے گفتگو سے پھول جھڑتا
کبھی موتی پروتا جا رہا ہے
لگائے جاتے ہیں جو داغ دل پر
نواز اشکوں سے دھوتا جا رہا ہے
شاہنواز سواتی
No comments:
Post a Comment