صفحات

Thursday, 28 May 2026

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

  انا للہ و انا الیہ راجعون، معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے


ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے

چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے

کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے

تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر

محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے

سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کو

ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے

مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہو گا

پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے


بشیر بدر​

No comments:

Post a Comment