صفحات

Thursday, 28 May 2026

کسی کی یاد مرے دل میں اس طرح آئی

 کسی کی یاد مِرے دل میں اس طرح آئی

بجی ہو جیسے کسی غم کدے میں شہنائی

تمام عُمر فراموش ہی رہی ہم سے

بوقتِ مرگ مگر زندگی کی یاد آئی

بڑے خلوص سے اپنے ہی خون کی پوشاک

تمہارے خنجرِ عُریاں کو ہم نے پہنائی

کسی کا ساتھ گوارا ہُوا نہ قسمت کو

مِرے نصیب میں لِکھی ہوئی تھی تنہائی

سفر کے وقت یہ آواز کِس نے دی ہم کو

ہمارے پاؤں میں زنجیر کِس نے پہنائی

جلا لیا جو دِیا دل کا ہم نے اے روشن

اسی دِیے سے زمانے نے روشنی پائی


روشن لال روشن

No comments:

Post a Comment