بچھڑا ہر ایک فرد بھرے خاندان کا
یہ مجھ کو ٭شاپ لگ گیا کس بے زبان کا
قدموں تلے تھے جتنے سمندر سرک گئے
اب کیا کروں گا دیکھ کے منہ بادبان کا
میرے وجود کے کوئی معنی نہیں رہے
تیکھا سا ایک تیر ہوں ٹوٹی کمان کا
آکاش کوسنے سے کوئی فائدہ نہیں
بہتر ہے نقص دیکھ لوں اپنی اڑان کا
جب سے ہوا ہے راج ٭پشاچوں کا شہر پر
جنگل میں ہم کو خوف نہیں اپنی جان کا
میں نے اٹھائے ہاتھ دعا کے لیے مگر
لاشہ زمیں پہ آن پڑا آسمان کا
سید صادق علی
٭شاپ (سنسکرت): بد دعا
٭٭پشاچ (سنسکرت) دیو، گوشت خور، عفریت، بد روح
No comments:
Post a Comment