خیال زلف عنبر بار میں آنسو نہاتے ہیں
اسی باعث ہماری آنکھ عنبر بار گریہ ہے
اٹھا سکتا ہوں ساتون آسمان کا بوجھ میں سر پر
مگر مجھ سے نہیں اٹھتا ہے یہ جو بار گریہ ہے
وطن میں آچ بس آو فغاں کی فصل کٹتی ہے
کلیسا ہو کہ مسجد ہو وہ لالہ زار گریہ ہے
نہیں موقوف اک موسم پہ دل کی خانہ ویرانی
کہ اس گھر میں تو ہر شام وسحر پیکار گریہ ہے
اگر آنسو بہانے ہیں تو نیلم آنکھ میں رکھ لو
جو تم دو اشک ہی لائے تو کیا مقدار گریہ یے
مجھے تار نظر پر یہ گماں ہوتا ہے بارش میں
رگ ابر شرر افشاں بھی گویا تار گریہ یے
اثر ہوتا تھا کیا اہل ہوس پر میرے رونے کا
تبسم زیر لب کہتے ہیں یہ شہکار گریہ ہے
ہوئی اب جنس درد وغم فراوان اس قدر صابر
زمانے بھر کا ہر بازار اب بازار گریہ ہے
ڈاکٹر صابر آفاقی
No comments:
Post a Comment