صفحات

Friday, 1 May 2026

خیال زلف عنبر بار میں آنسو نہاتے ہیں

 خیال زلف عنبر بار میں آنسو نہاتے ہیں

اسی باعث ہماری آنکھ عنبر بار گریہ ہے

اٹھا سکتا ہوں ساتون آسمان کا بوجھ میں سر پر

مگر مجھ سے نہیں اٹھتا ہے یہ جو بار گریہ ہے

وطن میں آچ بس آو فغاں کی فصل کٹتی ہے

کلیسا ہو کہ مسجد ہو وہ لالہ زار گریہ ہے

نہیں موقوف اک موسم پہ دل کی خانہ ویرانی

کہ اس گھر میں تو ہر شام وسحر پیکار گریہ ہے

اگر آنسو بہانے ہیں تو نیلم آنکھ میں رکھ لو

جو تم دو اشک ہی لائے تو کیا مقدار گریہ یے

مجھے تار نظر پر یہ گماں ہوتا ہے بارش میں

رگ ابر شرر افشاں بھی گویا تار گریہ یے

اثر ہوتا تھا کیا اہل ہوس پر میرے رونے کا

تبسم زیر لب کہتے ہیں یہ شہکار گریہ ہے

ہوئی اب جنس درد وغم فراوان اس قدر صابر

زمانے بھر کا ہر بازار اب بازار گریہ ہے


ڈاکٹر صابر آفاقی

No comments:

Post a Comment