صفحات

Saturday, 2 May 2026

مدت سے آسمان کو دیکھا نہیں حضور

 مدت سے آسمان کو دیکھا نہیں حضور

کوئی بھی حال پوچھنے آیا نہیں حضور

تعلیم مجھ کو ساری ہی معکوس دی گئی

لیکن میں ایک لفظ بھی بولا نہیں حضور

پتھر بنا دیا ہے مجھے ظلم و جور نے

میں نے خدا کے بارے میں سوچا نہیں حضور

شاید غنودگی میں ہی لوٹا زمیں پہ میں

ہوش و حواس میں کبھی رویا نہیں حضور

سنتا ہے کون شوق سے دکھ کی کہانیاں

میں گہری نیند برسوں سے سویا نہیں حضور


رشید سندیلوی

No comments:

Post a Comment