انا کی قید سے باہر نکل کے بات کریں
تمہارا ذکر جو آئے سنبھل کے بات کریں
اگر یہاں تمہیں نا محرموں کاخطرہ ہے
چلو زمیں سے کہیں اور چل کے بات کریں
سخن سے رنگ نہ میلا ہو اس کی خُوشبو کا
لبوں پہ پھُول چنبیلی کا مل کے بات کریں
لطافتیں تو فقط دوستوں کا حصہ ہیں
عدُو کے سامنے لہجہ بدل کے بات کریں
یہ معجزہ ہو کہ روشن بدن کے ساتھ قمر
دِیے کی طرح ہواؤں میں جل کے بات کریں
کامران قمر
No comments:
Post a Comment