تِری گلی میں جو بستر بِچھا کے بیٹھ گیا
وہ تیرے نام پہ سب کچھ لُٹا کے بیٹھ گیا
خُودی میں جس نے خُدا سے بھی کچھ نہیں مانگا
وہ بے خُودی میں تِرے در پہ آ کے بیٹھ گیا
قفس میں کترے تھے صیّاد نے پر بلبل کے
انہیں پروں کا نشیمن بنا کے بیٹھ گیا
کسی کے نقشِ قدم کو سمجھ کے جائے سمجھ
میں رہگزر پہ مصلّے بِچھا کے بیٹھ گیا
شراب خانے میں کل شیخ پی رہا تھا شراب
گیا جو میں تو مصلّے بِچھا کے بیٹھ گیا
میکش لکھنوی
آغا محمد حیدر
No comments:
Post a Comment