یہی چنار، یہی جھیل کا کنارا تھا
یہیں کسی نے میرے ساتھ دن گزارا تھا
نظر میں نقش ہے صبحِ سفر کی ویرانی
بس ایک میں تھا اور اِک صبح کا ستارا تھا
مِرے خلاف گواہی میں پیش پیش رہا
خراج دیتا چلا آ رہا ہوں آج تلک
میں ایک روز زمانے سے جنگ ہارا تھا
مجھے خود اپنی نہیں اس کی فکر لاحق ہے
بچھڑنے والا بھی مجھ سا ہی بے سہارا تھا
زمیں کے کام اگر میری دسترس میں نہیں
تو پھر زمیں پہ مجھے کس لیے اُتارا تھا
میں جل کے راکھ ہوا جس الاؤ میں عامرؔ
وہ ابتداء میں سُلگتا ہوا شرارہ تھا
مقبول عامر
No comments:
Post a Comment