آسماں کی چادر پرجس قدر ستارے ہیں
ہم نے اتنے ہی لمحے جاگ کر گزارے ہیں
رنگ و نُور کے پیکر دیکھ کر خیال آئے
حسن نے مری خاطر کتنے روپ دھارے ہیں
تم قیام کے خُوگر، ہم سفر کے شیدائی
جانے پُھول کب مہکیں، جانے آگ کب بھڑکے
دل میں نیم وا کلیاں، ذہن میں شرارے ہیں
دل کی ڈولتی کشتی کیسے گھاٹ اُترے گی
بے گراں سمندر ہے، بے لگام دھارے ہیں
مقبول عامر
No comments:
Post a Comment