صفحات

Sunday, 5 January 2014

مکیں ادھر کے ہیں لیکن ادھر کی سوچتے ہیں

مکِیں اِدھر کے ہیں، لیکن ادھر کی سوچتے ہیں
جب آگ گھر میں لگی ہو، تو گھر کی سوچتے ہیں
کہ جب زمیں ہی سَیلِ بلا کی زد میں ہو
تو پھر ثمر کی نہیں، پھر شجر کی سوچتے ہیں
اُڑے تو طے ہی نہ کی، حدِ آشیاں بندی
اب اُڑ چکے ہیں تو اب بال و پر کی سوچتے ہیں
تو میرا دل تو پرکھ، میرا انتخاب تو دیکھ
کہ اہلِ حُسن تو حُسنِ نظر کی سوچتے ہیں
یہ دشت ہے تو بگولوں سے کیا ہراسانی
سفر میں کیا، کبھی گردِ سفر کی سوچتے ہیں
کہ مِہر اپنا اثاثہ ہے، قہر ان کی اساس
وہ اپنی شب کی، ہم اپنی سحر کی سوچتے ہیں
ہمیں تو فکر مکاں کی بھی، مک،یں کی بھی
حضور آپ تو دیوار و در کی سوچتے ہیں
یہ ایک ہم، کہ کریں بات ماہ و انجم کی
اور ایک وہ کہ جو تیغ و تبر کی سوچتے ہیں

عطا شاد

No comments:

Post a Comment