صفحات

Sunday, 5 January 2014

یک لمحہ سہی عمر کا ارمان ہی رہ جائے

یک لمحہ سہی عمر کا ارمان ہی رہ جائے
اس خلوتِ یخ میں کوئی مہمان ہی رہ جائے
قُربت میں شبِ گرم کا موسم ہے تِرا جسم
اب خطۂ جاں وقفِ زمستان ہی رہ جائے
مجھ شاخِ برہنہ پہ سجا برف کی کلیاں
پت جھڑ پہ تِرے حُسن کا احسان ہی رہ جائے
برفاب کے آشوب میں جم جاتی ہیں سوچیں
اس کربِ قیامت میں تِرا دھیان ہی رہ جائے
مرمر کی سلوں میں تو گھٹے آگے کا دم بھی
یہ قریۂ جاناں ہے یہاں جان ہی رہ جائے
سوچوں تو شعاعوں سے تراشوں تِرا پیکر
چُھو لوں تو وہی برف کا انسان ہی رہ جائے
یہ شام یہ چاندی کا برستا ہوا جھرنا
کوئی تِری زلفوں میں پریشان ہی جائے
صورت سے وہ گل برف سہی، پھر بھی عطا شاد
تاثیر میں وہ مشک کی پہچان ہی رہ جائے

عطا شاد

No comments:

Post a Comment