صفحات

Sunday, 5 January 2014

بڑا کھٹن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو

بڑا کھٹن ہے راستہ، جو آ سکو تو ساتھ دو
یہ زندگی کا فاصلہ، مٹا سکو تو ساتھ دو
بڑے فریب کھاؤ گے، بڑے ستم اُٹھاؤ گے
یہ عمر بھر کا ساتھ ہے، نبھا سکو تو ساتھ دو
جو تم کہوں یہ دل تو کیا میں جان بھی فدا کروں
جو میں کہوں بس اِک نظر لٹا سکو تو ساتھ دو
میں اِک غریبِ بے نوا، میں اِک فقیر بے صدا
مری نظر کی التجا جو پا سکو تو ساتھ دو
ہزار امتحان یہاں، ہزار آزمائشیں
ہزار دُکھ، ہزار غم اُٹھا سکو تو ساتھ دو
یہ زندگی یہاں خوشی غموں کاساتھ ساتھ ہے
رُلا سکو تو ساتھ دو، ہنسا سکو تو ساتھ دو

عطا شاد

No comments:

Post a Comment