صفحات

Wednesday, 1 January 2014

دل ملا اور غم شناس ملا

دل ملا اور غم شناس ملا
پھول کو آگ کا لباس ملا 
ہر شناور بھنور میں ڈوبا تھا
جو ستارہ ملا، اداس ملا 
مئے کدے کے سوا ہمارا پتہ
ان کی زلفوں کے آس پاس ملا
مجھ کو تقدیر کی گزر گہ میں
صرف تدبیر کا ہراس ملا
آبِ حیواں کی دھوم تھی ساغرؔ
سادہ پانی کا اک گلاس ملا 

ساغر صدیقی

No comments:

Post a Comment