دل ملا اور غم شناس ملا
پھول کو آگ کا لباس ملا
ہر شناور بھنور میں ڈوبا تھا
جو ستارہ ملا، اداس ملا
مئے کدے کے سوا ہمارا پتہ
مجھ کو تقدیر کی گزر گہ میں
صرف تدبیر کا ہراس ملا
آبِ حیواں کی دھوم تھی ساغرؔ
سادہ پانی کا اک گلاس ملا
ساغر صدیقی
No comments:
Post a Comment