صفحات

Wednesday, 1 January 2014

فرات عصر شکستہ لبوں کا غم کیا کر

فراتِ عصر! شکستہ لبوں کا غم کِیا کر
ہم ایسے پیاسوں میں پانی کا ذکر کم کِیا کر
جو کچھ نہیں تو یہی کارِ محترم کِیا کر
مِرے مسیح نفس! پتھروں پہ دَم کِیا کر
یہ شہرِ چشم اگر تیرے حسبِ حال نہیں
غزالِ اشک! مِرے دشتِ دل میں رَم کیا کر
غنیمِ وقت کا پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے
جو تُو بھی سہہ سکے ہم پر وہی ستم کِیا کر
تُو جانتا ہے کہ دریا اُتر بھی جاتے ہیں
عروجِ موجۂ دنیا! غرور کم کِیا کر
ذرا بھی ہے ترے دل میں اگر لہو کا لحاظ
مہک فروش! مرے پھول مت قلم کِیا کر
گئے دُکھوں کے فسانے لکھیں ترے ہم عصر
فریدؔ! تُو غمِ آئندگاں رقم کِیا کر

احمد فرید

No comments:

Post a Comment