صفحات

Tuesday, 7 January 2014

رچی ہوئی ہے یہ کیسی مہک ہواؤں میں

    رَچی ہوئی ہے یہ کیسی مہک ہواؤں میں
    میں گھل نہ جاؤں کہیں ‌شام کی فضاؤں میں
    یہ کس کا عکس مِرے آنسوؤں میں لرزاں ہے
    یہ کس کا نام ہے شامل مِری دعاؤں میں
    چراغ و اطلس و کمخواب ہو گئے ہیں بہم
    لگے گی آگ کسی دن حرم سراؤں میں
    زمانے والوں سے مایوس ہو گیا شاید
    وہ شخص گھورتا رہتا ہے اب خلاؤں میں
    میں اُڑ تو جاؤں فضائے بسیط کی جانب
    مگر یہ آہنی زنجیر میرے پاؤں میں
    وصال و ہجر کا جھگڑا نہیں ہے میرے لیے
    میں جی رہا ہوں محبت کی دھوپ چھاؤں میں
    میں اپنے بخت ستارے کی کھوج میں عامرؔ
    تمام عمر بھٹکتا رہا خلاؤں میں

 مقبول عامر

No comments:

Post a Comment