جانے کیا سوچ کے اربابِ نظر لوٹ آئے
ایک دو گام پہ منزل تھی، مگر لوٹ آئے
کاش یوں ہو کہ یہ ٹھہری ہوئی شب ڈھل جائے
کاش یوں ہو کہ وہ گم گشتہ سحر لوٹ آئے
راستہ اتنا کھٹن تھا کہ سفیرانِ وفا
ایسے تازہ ہُوا بُھولے ہوئے غم کا احساس
ہم تیری بزم سے روتے ہوئے گھر لوٹ آئے
منصبِ عدل پہ بھی اہلِ ستم فائز تھے
لوگ ہاتھوں میں لیے کاسۂ سر لوٹ آئے
مدتیں ہو گئیں جس کو یہ نگر چھوڑے ہوئے
کل اچانک وہ یہاں کس کو خبر لوٹ آئے
مقبول عامر
No comments:
Post a Comment