دل دریا کے پار اِک ایسی وادی تھی
جس میں سارے جذبوں کی آزادی تھی
بُوٹے قد کی کومل سی شہزادی تھی
جس نے سارے شہر میں دُھوم مچا دی تھی
آگ بُجھا کر بھی کچھ ہاتھ نہیں آیا
دریا پر پہنچا تو کتنا رویا تھا
وہ جس نے صحرا میں عمر گنوا دی تھی
میں اس کے انبوہ میں اکثر کھو جاتا
میرے اندر اِک ایسی آبادی تھی
میری چُبھتی نظروں نے اِک دن عامرؔ
اُس پیکر کو عُریانی پہنا دی تھی
مقبول عامر
No comments:
Post a Comment