لگتا ہے کہ اب چاہتیں آساں ہیں زیادہ
عشاق ہیں کم، چاک گریباں ہیں زیادہ
اک آدھ کوئی صاحبِ دل بھی ہے فروکش
اب کوچۂ دلدار میں درباں ہیں زیادہ
مدت سے کوئی جانبِ مقتل نہیں آیا
جس تاج کو دیکھوں وہی کشکول نما ہے
اب کے تو فقیروں سے بھی سلطاں ہیں زیادہ
ہر ایک کو دعویٰ ہے یہاں چارہ گری کا
اب دل کے اجڑ جانے کے امکاں ہیں زیادہ
کیا کیا نہ غزل اس کی جدائی میں کہی
ہم پر شبِ ہجراں تِرے احساں ہیں زیادہ
لوگوں نے تو جو زخم دئیے تھے سو دئیے تھے
کچھ تیرے کرم ہم پہ مِری جاں ہیں زیادہ
مشاطۂ دنیا سے کہے کون فرازؔ اب
ہم یار کی زلفوں سے پریشان ہیں زیادہ
احمد فراز
احمد فراز
No comments:
Post a Comment