کرتے بھی کیا جانا پڑا پھر سے اسی قاتل کے پاس
ہم بارہا ہو آئے ہیں چارہ گرانِ دل کے پاس
کچھ بے گہر کی سیپیاں کچھ بے مسافر کشتیاں
دریا نے رخ بدلہ تو کیا باقی رہا ساحل کے پاس
جن جن کو تھا زعمِ وفا، پندارِ جاں، دعوائے دل
اس عشق و ترک میں ناصح کہاں سے آ گیا
یہ اختیار آنکھوں ہے یہ فیصل ہے دل کے پاس
کیا خضرؑ اور کیا راہبر، حیران ہیں اس بات پر
کیوں خوش نشیں ہے قافلہ اک راندۂ منزل کے پاس
احمد فراز
احمد فراز
No comments:
Post a Comment