صفحات

Saturday, 11 January 2014

یہ جان کر بھی کہ دونوں کے راستے تھے الگ

یہ جان کر بھی کہ دونوں کے راستے تھے الگ
 عجیب حال تھا جب اس سے ہو رہے تھے الگ
 یہ حرف و لفظ ہیں دنیا سے گفتگو کے لئے
 کسی سے ہم سخنی کے مکالمے تھے الگ
خیال ان کا بھی آیا کبھی تمہیں جاناں
 جو تم سے دور، بہت دور جی رہے تھے الگ
 ہمی نہیں ہیں، ہماری طرح کے اور بھی لوگ
 عذاب میں تھے جو اوروں سے سوچتے تھے الگ
 اکیلے پن کی اذیت کا اب گلہ کیسا
 فرازؔ خود ہی تو اپنوں سے ہو گئے تھے الگ

احمد فراز

No comments:

Post a Comment