یہ جان کر بھی کہ دونوں کے راستے تھے الگ
عجیب حال تھا جب اس سے ہو رہے تھے الگ
یہ حرف و لفظ ہیں دنیا سے گفتگو کے لئے
کسی سے ہم سخنی کے مکالمے تھے الگ
خیال ان کا بھی آیا کبھی تمہیں جاناں
ہمی نہیں ہیں، ہماری طرح کے اور بھی لوگ
عذاب میں تھے جو اوروں سے سوچتے تھے الگ
اکیلے پن کی اذیت کا اب گلہ کیسا
فرازؔ خود ہی تو اپنوں سے ہو گئے تھے الگ
احمد فراز
احمد فراز
No comments:
Post a Comment