جو ہماری نہیں تھی سر وہ مصیبت نہیں لی
شہر تیار تھا پر ہم نے ہی بیعت نہیں لی
جو میسر تھا لٹاتے رہے سرشاری میں
اہلِ دل سے کسی بھی چیز کی قیمت نہیں لی
یک بہ یک ٹوٹ گیا چارہ گری سے پہلے
دلِ بیمار نے ہم سے کوئی خدمت نہیں لی
ہم نے جو کچھ بھی کیا عمرِ دو روزہ میں کیا
ابدیت کے لیے مرگ سے مہلت نہیں لی
چاہنے والوں نے میرے مجھے چاہا تو بہت
پر کسی نے مِری مِیراثِ طبیعت نہیں لی
اس گرانی کی سکت ہی مِرے کاندھوں میں نہ تھی
بھول کر ہاتھ میں آباء کی وصیت نہیں لی
کچھ اگر لیں تو صِلہ اس کا چکائیں کیسے
اسی مشکل میں رہے کوئی سہولت نہیں لی
اک نگاہِ غلط انداز بھی دنیا پہ نہ کی
رشک تو دور بہت دور ہے، عبرت نہیں لی
بے سبب مشقِ سخن سے ہے خموشی اچھی
حرف باطل ہیں اگر دل سے اجازت نہیں لی
شہر تیار تھا پر ہم نے ہی بیعت نہیں لی
جو میسر تھا لٹاتے رہے سرشاری میں
اہلِ دل سے کسی بھی چیز کی قیمت نہیں لی
یک بہ یک ٹوٹ گیا چارہ گری سے پہلے
دلِ بیمار نے ہم سے کوئی خدمت نہیں لی
ہم نے جو کچھ بھی کیا عمرِ دو روزہ میں کیا
ابدیت کے لیے مرگ سے مہلت نہیں لی
چاہنے والوں نے میرے مجھے چاہا تو بہت
پر کسی نے مِری مِیراثِ طبیعت نہیں لی
اس گرانی کی سکت ہی مِرے کاندھوں میں نہ تھی
بھول کر ہاتھ میں آباء کی وصیت نہیں لی
کچھ اگر لیں تو صِلہ اس کا چکائیں کیسے
اسی مشکل میں رہے کوئی سہولت نہیں لی
اک نگاہِ غلط انداز بھی دنیا پہ نہ کی
رشک تو دور بہت دور ہے، عبرت نہیں لی
بے سبب مشقِ سخن سے ہے خموشی اچھی
حرف باطل ہیں اگر دل سے اجازت نہیں لی
خورشید رضوی
No comments:
Post a Comment