Friday, 14 November 2014

جو ہماری نہیں تھی سر وہ مصیبت نہیں لی

جو ہماری نہیں تھی سر وہ مصیبت نہیں لی
شہر تیار تھا پر ہم نے ہی بیعت نہیں لی
جو میسر تھا  لٹاتے رہے سرشاری میں
اہلِ دل سے کسی بھی چیز کی قیمت نہیں لی
یک بہ یک ٹوٹ گیا چارہ گری سے پہلے
دلِ بیمار نے ہم سے کوئی خدمت نہیں لی
ہم نے جو کچھ بھی کیا عمرِ دو روزہ میں کیا
ابدیت کے لیے مرگ سے مہلت نہیں لی
چاہنے والوں نے میرے مجھے چاہا تو بہت
پر کسی نے مِری مِیراثِ طبیعت نہیں لی
اس گرانی کی سکت ہی مِرے کاندھوں میں نہ تھی
بھول کر ہاتھ میں آباء کی وصیت نہیں لی
کچھ اگر لیں تو صِلہ اس کا چکائیں کیسے
اسی مشکل میں رہے کوئی سہولت نہیں لی
اک نگاہِ غلط انداز بھی دنیا پہ نہ کی
رشک تو دور بہت دور ہے، عبرت نہیں لی
بے سبب مشقِ سخن سے ہے خموشی اچھی
حرف باطل ہیں اگر دل سے اجازت نہیں لی

خورشید رضوی

No comments:

Post a Comment