Friday, 14 November 2014

سودائے سراب دے گئے ہیں

سودائے سراب دے گئے ہیں
کیا کچھ ہمیں خواب دے گئے ہیں
سوچوں کی اداس ٹہنیوں کو
زخموں کے گلاب دے گئے ہیں
روحوں کی سپاٹ وسعتوں کو
حیرت کے سحاب دے گئے ہیں
سانسوں کی خموش ندیوں کو
موجوں کے رباب دے گئے ہیں
ویران دلوں کے ساحِلوں کو
کیا کیا دُرِ ناب دے گئے ہیں
جھیلوں کے دراز دامنوں کو
عکسوں کی کتاب دے گئے ہیں
برسوں کے تھے مسافروں کو
عرصوں کے نصاب دے گئے ہیں
چہرے پہ بکھرتی جُھریوں کو
اندوہِ شباب دے گئے ہیں
اچھا ہے، وہ ہم زیاں کشوں کو
ادراکِ حساب دے گئے ہیں
ہر آن نئے سوال، تائبؔ
اعصاب جواب دے گئے ہیں

حفیظ تائب

No comments:

Post a Comment