سودائے سراب دے گئے ہیں
کیا کچھ ہمیں خواب دے گئے ہیں
سوچوں کی اداس ٹہنیوں کو
زخموں کے گلاب دے گئے ہیں
روحوں کی سپاٹ وسعتوں کو
حیرت کے سحاب دے گئے ہیں
سانسوں کی خموش ندیوں کو
موجوں کے رباب دے گئے ہیں
ویران دلوں کے ساحِلوں کو
کیا کیا دُرِ ناب دے گئے ہیں
جھیلوں کے دراز دامنوں کو
عکسوں کی کتاب دے گئے ہیں
برسوں کے تھے مسافروں کو
عرصوں کے نصاب دے گئے ہیں
چہرے پہ بکھرتی جُھریوں کو
اندوہِ شباب دے گئے ہیں
اچھا ہے، وہ ہم زیاں کشوں کو
ادراکِ حساب دے گئے ہیں
ہر آن نئے سوال، تائبؔ
اعصاب جواب دے گئے ہیں
کیا کچھ ہمیں خواب دے گئے ہیں
سوچوں کی اداس ٹہنیوں کو
زخموں کے گلاب دے گئے ہیں
روحوں کی سپاٹ وسعتوں کو
حیرت کے سحاب دے گئے ہیں
سانسوں کی خموش ندیوں کو
موجوں کے رباب دے گئے ہیں
ویران دلوں کے ساحِلوں کو
کیا کیا دُرِ ناب دے گئے ہیں
جھیلوں کے دراز دامنوں کو
عکسوں کی کتاب دے گئے ہیں
برسوں کے تھے مسافروں کو
عرصوں کے نصاب دے گئے ہیں
چہرے پہ بکھرتی جُھریوں کو
اندوہِ شباب دے گئے ہیں
اچھا ہے، وہ ہم زیاں کشوں کو
ادراکِ حساب دے گئے ہیں
ہر آن نئے سوال، تائبؔ
اعصاب جواب دے گئے ہیں
حفیظ تائب
No comments:
Post a Comment