Friday, 14 November 2014

مرکز سے اپنے میں ہوں کچھ ایسے ہٹا ہوا

مرکز سے اپنے میں ہوں کچھ ایسے ہٹا ہوا
جیسے کوئی پتنگ خلا میں کٹا ہوا
اب میرے دل میں نقش ابھرتا نہیں کوئی
یہ آئینہ ہے گردِ سفر سے اَٹا ہوا
آیا قبائے زیست کا ایک ایک چاک یاد
کالر کسی کا میں نے جو دیکھا پھٹا ہوا
یکسُوئی چاہتا ہے ہر اِک پہلوئے حیات
لیکن ہے دھیان میرا برابر بٹا ہوا
اپنی طرف سے بھی مجھے کچھ کہنے دیجئے
کب تک سنائے جاؤں سبق میں رَٹا ہوا
تجدیدِ رسم و راہ کسی سے کروں تو کیا
تائبؔ! مَیں اپنی ذات سے بھی ہوں کٹا ہوا

حفیظ تائب

No comments:

Post a Comment