صفحات

Friday, 14 November 2014

ہر ایک روپ ہے اس کا پہیلیوں کی طرح

ہر ایک روپ ہے اس کا پہیلیوں کی طرح
کھلے نہ مجھ پہ وہ اجڑی حویلیوں کی طرح
یہ رنگ رنگ پرندے ہی ہم سے اچھے ہیں
جو اک درخت پہ رہتے ہیں بیلیوں کی طرح
سنہری دھوپ میں بیٹھی ہوں مل کے جب چڑیاں
تو چہچہاتی ہیں الھڑ سہیلیوں کی طرح
اٹھا کے ہاتھ دعائیں نہ مانگ بارش کی
فلک بھی خشک ہے تیری ہتھیلیوں کی طرح
اجڑ گیا ہے مگر راس رُت بدلنے سے
کبھی مہکتا تھا خاورؔ چنبیلیوں کی طرح

خاقان خاور 

No comments:

Post a Comment