اپنے خوابوں سے نکلتا ہی نہیں
ساتھ دنیا کے وہ چلتا ہی نہیں
شک کی آندھی میں بھروسے کا دِیا
دل کی دیوار پر جلتا ہی نہیں
کتنا سنسان ہے سیدھا رستہ
جیسے اس پر کوئی چلتا ہی نہیں
کوئی تصویر ہے ویرانی کی
گھر کا نظارہ بدلتا ہی نہیں
دیکھ کی تپتے ہوئے آنگن کو
سایہ دیوار سے ڈھلتا ہی نہیں
دھوپ بن کر بھی اترا خاورؔ
برف سا شخص پگھلتا ہی نہیں
ساتھ دنیا کے وہ چلتا ہی نہیں
شک کی آندھی میں بھروسے کا دِیا
دل کی دیوار پر جلتا ہی نہیں
کتنا سنسان ہے سیدھا رستہ
جیسے اس پر کوئی چلتا ہی نہیں
کوئی تصویر ہے ویرانی کی
گھر کا نظارہ بدلتا ہی نہیں
دیکھ کی تپتے ہوئے آنگن کو
سایہ دیوار سے ڈھلتا ہی نہیں
دھوپ بن کر بھی اترا خاورؔ
برف سا شخص پگھلتا ہی نہیں
خاقان خاور
No comments:
Post a Comment