Friday, 14 November 2014

اپنے خوابوں سے نکلتا ہی نہیں

اپنے خوابوں سے نکلتا ہی نہیں
ساتھ دنیا کے وہ چلتا ہی نہیں
شک کی آندھی میں بھروسے کا دِیا
دل کی دیوار پر جلتا ہی نہیں
کتنا سنسان ہے سیدھا رستہ
جیسے اس پر کوئی چلتا ہی نہیں
کوئی تصویر ہے ویرانی کی
گھر کا نظارہ بدلتا ہی نہیں
دیکھ کی تپتے ہوئے آنگن کو
سایہ دیوار سے ڈھلتا ہی نہیں
دھوپ بن کر بھی اترا خاورؔ
برف سا شخص پگھلتا ہی نہیں

خاقان خاور 

No comments:

Post a Comment