اگر میں خدا اِس زمانے کا ہوتا
تو عنواں کچھ اور اِس فسانے کا ہوتا
عجب لطف دنیا میں آنے کا ہوتا
مگر، ہائے ظالم زمانے کی رسمیں
ہیں کڑواہٹیں جن کی امرت کی رس میں
مری عمر بیتی چلی جا رہی ہے
دو گھڑیوں کی چھاؤں ڈھلی جا رہی ہے
ذرا سی یہ بتی جلی جا رہی ہے
جونہی چاہتی ہے مِری رُوحِ مدہوش
کہ لائے ذرا لب پہ فریادِ پُرجوش
اجل آ کے کہتی ہے! خاموش، خاموش
مجید امجد
No comments:
Post a Comment